22 اگست 2011 - 19:30

وہ جو اہل بیت علیہم السلام کی حقانیت کی جستجو میں مصروف ہیں وہ حدیث ثقلین ہی کو کیوں نہیں لیتے؟ کیا اس حدیث کو پڑھنے کے بعد بھی ایک حق شناس انسان کو کوئی شک رہ سکتا ہے کہ اسلام اصیل صرف اہل بیت علیہم السلام سے ملتا ہے۔ اسلام خالص اسی گھرانے کے پاس ہے۔ دلائل بہت ہیں اس بات کے لیکن اس سے بڑی بھی کیا کوئی دلیل ہوسکتی ہے؟

اس مضمون کو آسانی سے سمجھنے کی خاطر سے ہم نے مندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا ہے۔١- ابتدائیہ۔٢- حدیث و سنت کی شریعت میں اہمیت،٣- حدیث ثقلین کا منطقی پس منظر٤- حدیث ثقلین اور اسکی شرح٥- اسناد و ماخذات ابتدائیہ؛ حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک حدیث الثقلین کے نام سے مشہور ہے اور ملت کے سبھی معتبر منابع حدیث بمع صحاح ستہ میں بطور حدیث حسن یعنی کہ متفق علیہ اورقابل وثوق حدیث کے طور پر مذکور ہے۔ آج ہم اس حدیث کے منطقی و تشریحی زاویوں پر قرآن و سنت کی سند کے ساتھ گفتگو کریں گے۔ اس سے پہلے کہ میں حدیث کا متن و ترجمہ پیش کروں،  ضروری سمجھتا ہوں کہ حدیث کی کی شریعت میں اہمیت اور اس حدیث کا منطقی پس منظر پیش کردوں۔

٢- حدیث و سنت کی شریعت میں اہمیت پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خدائے پاک  نے محض ایک پیغام بر بنا کر  نہیں بھیجا تھا بلکہ آپ کو شریعت کے امور میں شارع کی حیثیت بھی حاصل تھی، اور آپ کے کہے، کئے اور قبول کئے گئے قول و عمل کو قرآن کے ذریعے اصول شریعت کا درجہ حاصل ہے۔ جیسا کہ سورہ حجرات میں فرمایا کہ يَا ايُّھا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّہ وَرَسُولِہ وَاتَّقُوا اللَّہ انَّ اللَّہ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (الحجرات آیت ١) کہ اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول (کے حکم) سے آگے مت بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ وہ (جو تم سرگوشی کرتے ہو وہ بھی) سنتا بھی ہے اور ( جو تم سوچتے ہو) وہ جانتا بھی ہے۔ یعنی جو اللہ اور اسکارسول کہ دیں وہی حرف آخر ہے۔ پھر بار بار جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی غیر مشروط اطاعت کا حکم دیا ہے وہیں انکے عمل (سنت) کے اتباع کا حکم بھی دیا ہے، جیسا کہ آلِ عمران میں فرمایا کہ قُلْ ان كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّہ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّہ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللّہ غَفُورٌ رَّحِيمٌ کہ اے میرے رسول (یہ لوگ جو اللہ سے محبت کے دعوے کرتے ہیں) ان سے کہیئے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو (اسکا معیار یہی ہے کہ) تم پھر میری پیروی کرو، اللہ خود تم سے محبت کرے گا اور وہ (خود ہی) تمہاری خطائیں معاف فرما دے گا کہ وہ بخشن ہار اور حد سے زیادہ مہربان ہے

اسی طرح سے سورہ الحشر کی آیت نمبر سات میں فرمایا کہ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہ وَمَا نَھاكُمْ عَنْہ فَانتَھوا  کہ جو رسول دیں وہ لے لو اور جس سے منع فرمائیں اس سے رک جاؤ۔  یہ اسی آیہ شریف ہی کی عملی تفسیر ہے کہ سوائے چند ایک حلال و حرام کے، باقی سبھی حلال و حرام قرآن میں بالتصریح مذکور نہیں ہیں، اور انکی حدود حدیثِ رسول مقبول میں معین کی گئی ہیں۔اتباع رسول کی نسبت سے قرآن میں متعدد احکامات موجود ہیں، لیکن ہم انہی متذکرہ بالا پر اکتفاء کرتے ہوئے یہ کہنے کے قابل ہو گئے ہیں کہ احادیث رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہمیت دین میں اصول ہائے شریعت کی ہے اور ان سے انکار دین سے اخراج کے مساوی ہے۔ اسی لئے اکابرین ملت نے شروع سے ہی احادیث کو جمع کرنے اور انکی تدوین و تحقیق کا کام شروع کردیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے قرآن کے بعد سنت رسول کو ہی سامنے رکھ کر اپنی زندگیوں کے فیصلے کئے اور اسی بناء پر فقہاء ملت نے تمام تر تفریقات کے باوجود قرآن کے ساتھ حدیث و سنت کو متفقہ طور پرمآخذات ِ شریعت تسلیم کر رکھا ہے اور اس سے انکار ممکن ہی نہیں ہے۔

٣- حدیث ثقلین کا منطقی پس منظر۔

پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مطمع نظر محض پیغام رسانی ہی نہیں رہا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  امت کو مستقبل کی اخبار بھی دیتے رہے جیسا کہ متواتر احادیث میں قرب قیامت کی علامات، مھدی موعود (ع) کے تذکرے اور سچے دعویدار کی پہچان بتائی اور ساتھ ساتھ فتنہ ء دجال کے متعلق امت کو انتباہ کیا اور صحیح راستوں کی نشانیاں بھی بتائیں۔ ان سب باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ نبیء کریم محض اپنے زمانے سے متعلق فکر مند نہیں تھے، بلکہ  آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کو مسلمانان عالم کے مستقبل کی فکر بھی لاحق تھی اور صرف یہی نہیں، بلکہ امت کی نجات اور روز حشر تک متعلقہ اپنی فکر مندی کو آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے بیشمار مقامات پر ظاہر کیا۔

جسطرح کوئی بھی فرد عاقل اور ذمہ دار قائد کسی بھی مسئلے کی نشاندہی کر دینے کو کافی نہیں جانتا، اسی طرح پیمبر (ص) کی نظر میں بھی محض فتن اور انکی علامات کا ذکر کافی نہ تھا جب تک کہ فلاح و نجات کے اسباب بھی فراہم نہ کر دیتے۔ منطقی طور پر امت کی فلاح اسی میں تھی اور ہے کہ اس پیغام ِ خداوندی کے ساتھ جڑے رہیں جسے خداوند متعال نے سر چشمہء ہدایت بنا کر نازل کیا ہے۔ لیکن رسول مقبول جانتے تھے کہ محض پیغام کا محفوظ رہ جانا اس پر عمل کی یقین دہانی نہیں کرا سکتا۔ اس کے لئے کسی ایسے فرد کی امت کو ضرورت تھی جو مثل رسول بن کر اس پیغام کی نگہبانی بھی کرتا اور کردار و عمل میں امت کے لئے امام بن کر مشعل راہ بن سکتا۔ امت کے لئے اس نظریہء ضرورت ِامامت کو ان افراد نے بھی تسلیم کیا ہے جن کے نزدیک رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے اپنے بعد کے ہادی کی نشاندہی نہیں کی تھی، اور اسی ضرورت کے احساس کےتحت وصال رسول (ص) کے بعد امت کی ایک بڑی جماعت آنحضور کے کفن دفن سے پہلے ملت کیلئےراہنما کے تعین میں مصروف ہو گئی تھی۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی ء مبارک میں ہی ملت تمام امور پر متفق نہیں ہوتی تھی اور کئی مقامات پر صحابہء کرام اپنے تشریحی و تشریعی نزاعات کے حل کے لئے آنحضور (ص) کے پاس حاضر ہوتے رہتےتھے۔ جیسا کہ سورہ حجرات کی آیت يَا اَيُّھَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْھَرُوا لَہُ بِالْقَوْلِ كَجَھرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ ان تَحْبَطَ اعْمَالُكُمْ وَانتُمْ لَا تَشْعُرُونَ (الحجرات آیت ٢) کی تفسیر کے سلسلہ میں کتاب فتح الباری فی شرح الصحیح البخاری کے باب تفسیر میں الامام العلامہ الحافظ شيخ الاسلام ابو الفضل احمد بن علاء الدين المعروف: ابن حجر العسقلاني المصري نے لکھا ہے بنی تمیم کےایک قافلے کی آمد کے موقع پر حضرات ابو بکر صدیق و عمر فاروق رضی اللہ عنھما کے مابین اختلاف ہو گیا اور ایک دوسرے سے بحث میں انکی آوازیں اسقدر بلند ہوگئیں اور حضورِ رسالتمآب (ص) سے بے خبری  واقع ہوگئی اور خود رسول پاک کی سمجھانے بجھانے کی آواز انکی آوازوں میں دب کر رہ گئی، جسے انہوں نے بہت جلد محسوس کر کے آپس میں بھی معذرت کی اور رسول اللہ (ص) سے بھی معذرت کی۔  اسی طرح بیسیوں مقامات کتب سیر و حدیث میں مرقوم ہیں جہاں صحابہ کے درمیان اختلاف شدید نزاع کی صورت اختیار کر جاتا رہا اور حضور نبیء کریم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو انکے مابین صلح کروانا پڑی۔ متعدد مقامات پر اختلاف سے بیزاری کی ہدایت حدیثِ رسول میں بھی ملتی ہے اور قرآن کریم میں بھی۔ جیسا کہ صحیح المسلم اور مسند احمد میں حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ آنحضور (ص) نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی ہلاکت کا سبب انکا اختلاف اور حد سے بڑھے ہوئے سوالات تھے اور تم اس حرکت سے خود کو بچاؤ تاکہ ہلاکت سے بچ سکو۔

گو کہ اختلاف رائے ایک فطری و بشری تقاضا ہے، لیکن شریعت کے احکامات کے معاملہ میں خداوند متعال ہمیں اختلاف سے دور رہنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی تنبیہہ فرمائی کہ امت کے تہتر فرقوں میں سے صرف ایک ناجی ہے، تاکہ امت اختلافی امور ایجاد کرنے کی بجائے قرآن و سنت کی روشنی میں اپنے لئے راہ عمل معین کرتی رہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کے مابین خود تفسیر قرآن پر اختلاف رائے ہوتا رہا ہے، اس لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ ایک ایسی جماعت تشکیل دے سکیں جو کہ اختلافات سے خالی امت کہلا سکے اوروہ نجاتِ ملت کا کارنامہ انجام دے سکیں۔ جیسا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ امَّت وَسَطًا لِّتَكُونُواْ شُھدَاء عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَھيدًا (البقرہ آیت٢) کے ضمن میں عبداللہ ابن عباس سے فرمایا کہ میں اس آیت سے مطلب یہی سمجھتا تھا کہ رسول پاک ہمیشہ گواہ بن کر اس دنیا میں زندہ رہیں گے اور کبھی فوت نہ ہونگے، اس لئے میں نے آپ (ص) کے وصال کے وقت آپ (ص) کی وفات کا پہلے انکار کیا، جب تک کہ صدیق اکبر (رض) نے مجھے سورہ آل عمران کی آیات تلاوت کر کے حقیقت سمجھا نہ دی۔ ( ملاحظہ ہو سیرت ابن ہشام، جلد ٢ ، اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب از ڈاکٹر طہ جابر فیاض العلوانی ص ٥٠)۔ ایسی صورت میں ضروری تھا کہ رسول پاک کسی ایسے گروہ یا فرد کی تربیت فرماتے جو قرآن کی تفسیر ویسے ہی جانتے جیسا کہ رسول اللہ خود جانتے تھے اور جو قرآن کے مزاج سے اسی طرح آشنا ہوں جیسا کہ اللہ چاہتا ہے۔

سورہ انفال کی آیت نمبر ٨٦ میں فرمایا کہ وَاطِيعُواْ اللّہ وَرَسُولہ وَلاَ تَنَازَعُواْ فَتَفْشَلُواْ وَتَذْھبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُواْ انَّ اللّہ مَعَ الصَّابِرِينَ (انفال آیت ٨٦) کہ اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں تنازعات (و اختلاف) مت کرو، ورنہ ناکام ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی، اور ہاں صبر کرتے رہو کہ اللہ صابرین کے ساتھ ہے۔ اس آیت کریمہ کو اگر بغور پڑھیں تو حکم یہی ہو رہا ہے کہ اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرو اور اس اطاعت میں اختلاف مت کرو، ورنہ جنت پانے کی کامیابی تمہیں نہیں ملے گی، اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ ایسے میں اگر اس طرح کی صورت حال آ جائے تو صبر سے کام لو اور ہاں دیکھو اگر یہ جاننا ہو کہ اللہ کس طرف ہے تو جہاں صبر ہوگا سمجھو اللہ اسی طرف ہے اور وہی راستہ صحیح ہے۔ اس آیہ مجیدہ سے یہ بھی صاف پتہ چل رہا ہے کہ صحابہ کرام کے مابین  احکام رسول کی پیروی اور تفسیر قرآن پر عہد رسول ہی میں اختلاف و نزاع کی صورت موجود تھی، تبھی تو یہ آیت نازل ہوئی کہ بلا سبب اختلاف پیدا کرنے کی بجائے سیدھے سادھے طریقے سے اطاعت کرو اور اگر دوسرا گروہ تمہیں غلط کہے تو صبر سے کام لو، کیونکہ یہ فساد پھیلانے سے بہتر ہے۔ مزید برآں اگر غلط نکتہء نظر والا گروہ بھی صبر کر لے گا تو ان کو اپنی ہی بات پر غور و خوض کا موقع مل جائے گا اور یوں صبر کے سبب جو اللہ کی معیت نصیب ہوگی وہ انہیں صحیح راستے پر ڈال دے گی۔

ان آیات و احادیث سے یہ بھی ثابت ہوتا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے مابین اختلاف و نزاع پیدا ہوجاتا تھا، اور جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے مابین اسقدر اختلاف موجود تھا تو یہ ایک یقینی امر تھا کہ انکی پیروی امت کو فرقوں میں منقسم کر دے گی، اور اس خوف سے رسول کریم آگاہ تھے۔ اسی لئے یہ ممکن نہ تھا کہ آپ ہدایت کا کچھ ایسا سامان نہ فرمادیتے کہ جسے امت وصیت جان کر اس پر عمل کرتی اور اختلاف کی کمی کا سبب بن جاتا۔

٤۔